انڈین وزیرِ خزانہ نرملا سیتا رمن نے مالی سال 2027-2026 کا مرکزی بجٹ پیش کیا ہے اور اس میں وزارتِ دفاع کے بجٹ میں گذشتہ برس کے مقابلے 15 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جو اب 85 ارب 40 کروڑ ڈالرز تک پہنچ چکا ہے۔
لوک سبھا میں پیش کیے جانے والے بجٹ میں آئندہ مالی سال میں مختلف وزارتوں کے لیے مختص رقم کا تعین کیا جاتا ہے۔
انڈین وزارتِ دفاع نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں بتایا کہ آئندہ بجٹ میں اضافے کا مقصد دفاعی شعبے میں جدت لانا، نئی ٹیکنالوجی کا حصول اور وسائل کے بہتر استعمال کے لیے آسان خریداری پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔
ہتھیاروں اور سازو سامان کی خرید و فروخت کے بجٹ میں 21 اعشاریہ 84 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
ڈیفینس سروسز میں روزمرہ کے آپریشنل اخراجات، ایندھن، مرمت اور تنخواہوں کی مد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔
دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے، جب گذشتہ سال مئی میں انڈیا کا پاکستان کے ساتھ فوجی تنازع ہوا تھا۔
گذشتہ برس اپریل میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں مسلح عسکریت پسندوں کے ہاتھوں 26 افراد کی ہلاکت کے بعد انڈیا نے پاکستان میں عسکریت پسندوں کے کیمپوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ انڈیا نے اسے ’آپریشن سندور‘ کا نام دیا تھا۔
اس کے بعد انڈیا اور پاکستان کے مابین فوجی تصادم شروع ہو گیا تھا۔ انڈین فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستانی فوج کے ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم او) کی طرف سے جنگ بندی کی درخواست کے بعد فوجی تصادم رک گیا تھا۔





