پاسبان رپورٹ
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دوستی اور برادرانہ تعلقات جنوبی ایشیا میں باہمی اعتماد، احترام اور تعاون کی ایک مضبوط مثال ہیں، جن کا باقاعدہ آغاز 1948ء میں سری لنکا کی آزادی کے فوراً بعد ہوا، جب دونوں ممالک نے سفارتی تعلقات قائم کیے۔ اس کے بعد سے پاکستان اور سری لنکا نے ہر دور میں ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرتے ہوئے سیاسی، سفارتی، اقتصادی، ثقافتی اور عوامی روابط کو فروغ دیا۔ اعلیٰ سطح کے سرکاری دورے، مشترکہ مشاورتی اجلاس اور عالمی و علاقائی فورمز پر ایک دوسرے کی حمایت اس دیرینہ دوستی کا عملی اظہار ہیں۔ اقتصادی شعبے میں دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، ادویات اور توانائی جیسے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں، جبکہ ثقافتی اور عوامی سطح پر مذہبی سیاحت، بدھ مت کے مقدس مقامات، ثقافتی میلوں اور کرکٹ جیسے کھیل نے دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کے مزید قریب کیا ہے۔ پاکستان میں تعینات سری لنکا کے ہائی کمشنر ریئر ایڈمرل (ریٹائرڈ) فریڈ سینے ویراتنے، جنہوں نے 2023ء میں پاکستان میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں، پاک–سری لنکا تعلقات کے استحکام اور فروغ میں نہایت فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستانی وزارتِ خارجہ، حکومتی اداروں، تجارتی و کاروباری حلقوں اور تعلیمی و ثقافتی تنظیموں سے مسلسل رابطے کے ذریعے دوطرفہ تعاون کو وسعت دی، تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ، آزاد تجارتی معاہدے کو مؤثر بنانے، ثقافتی و تعلیمی تبادلوں اور عوامی سفارتکاری کو خصوصی توجہ دی۔ ان کی کوششوں سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا مزید مضبوط ہوئی ہے، خصوصاً کھیلوں کے شعبے میں سری لنکن کرکٹ ٹیم کے کامیاب دوروں اور پاکستان پر اعتماد نے دوستی کو نئی جہت دی ہے۔ مجموعی طور پر پاکستان اور سری لنکا کے تعلقات ایک مضبوط، ہمہ جہت اور مستقبل کی طرف بڑھتے ہوئے تعلقات ہیں، جن کی بنیاد 1948ء میں رکھی گئی اور جنہیں موجودہ سفارتی قیادت مزید پائیدار اور مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
پاکستان اور سری لنکا کے تعلقات تاریخی، دوستانہ اور کثیرالجہتی تعاون پر مبنی ہیں۔ دونوں ممالک نے قیامِ پاکستان کے بعد سے باہمی احترام، اعتماد اور مفادات کی بنیاد پر تعلقات کو مضبوط بنایا ہے۔ اس دوستی میں سیاسی، ثقافتی، اقتصادی، کھیلوں اور عوامی روابط کے شعبوں نے اہم کردار ادا کیا ہے، جس سے خطے میں امن و ترقی کے فروغ میں مدد ملی ہے۔
📌 تاریخی پس منظر
پاکستان اور سری لنکا نے جلد ہی باہمی سفارتی تعلقات قائم کیے، جن کا بنیادی مقصد خطے میں امن و استحکام، باہمی تعاون اور دوستانہ تعلقات کو فروغ دینا رہا ہے۔ دونوں ممالک اکثر عالمی اور علاقائی فورمز پر ایک دوسرے کا ساتھ دیتے رہے ہیں اور تعاون کے متعدد مواقع تلاش کیے ہیں۔
🤝 سیاسی اور سفارتی تعاون
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان باہمی سیاسی تعاون مضبوط رہا ہے۔ اعلیٰ سطح کے سفارتی دورے، وزارتی ملاقاتیں اور باہمی تبادلے تعلقات کو مزید تقویت دیتے ہیں۔ پاکستانی حکام نے سری لنکا کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام کا بارہا اعادہ کیا ہے، اور دونوں ممالک نے باہمی مفادات کے تحت تعاون پر زور دیا ہے۔

💼 اقتصادی اور تجارتی روابط
اقتصادی شعبے میں دونوں ممالک نے تجارتی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ حالیہ بات چیت میں گفتگو کی گئی ہے کہ آزاد تجارتی معاہدہ (FTA) کو فعال کر کے تجارت، صنعت اور سرمایہ کاری کے مواقع کو مزید بڑھایا جائے۔
🎭 ثقافتی اور عوامی روابط

ثقافتی تعاون نے دونوں ممالک کے عوام کو قریب کیا ہے۔ پاکستان اور سری لنکا نے مشترکہ ثقافتی میل جول، فنون اور ورثے کے پروگراموں پر کام کیا ہے، اور مذہبی و سیاحتی مواقع کو فروغ دینے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
🏏 کھیلوں میں باہمی ربط
کرکٹ جیسے کھیل نے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان محبت اور قربت بڑھائی ہے۔ سری لنکن کرکٹ ٹیم کے پاکستان کے دورے نے نہ صرف کھیل کے فروغ میں کردار ادا کیا بلکہ عوام میں دوستی اور تعاون کی فضا کو مضبوط کیا۔

✈️ سیاحت اور رابطے
سری لنکا کے سیاحتی روڈ شوز اور براہِ راست پروازوں نے دونوں ممالک کے درمیان سیاحتی روابط کو فروغ دیا ہے۔ خاص طور پر ہزاروں پاکستانی شہریوں نے سری لنکا کا دورہ کیا، جس سے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان رابطوں میں اضافہ ہوا ہے۔





