ایران کا اسلامی انقلاب ایک ایسی قوم کے اجتماعی عزم کا مظہر تھا جس نے ایمان، تاریخی تشخص اور آزادی و خودمختاری کی جائز خواہش کی بنیاد پر غیر ملکی طاقتوں کے زیرِ اثر ایک آمرانہ نظام کو شکست دی۔ یہ تاریخی تبدیلی قومی خودمختاری، عوامی شرکت پر مبنی حکمرانی، اور ایرانی عوام کے وقار اور آزادی کی بحالی کا نقطۂ آغاز ثابت ہوئی۔ اپنے قیام کے آغاز سے ہی اسلامی جمہوریہ ایران نے آزادی، استقلال، انصاف اور ہر قسم کی بالادستی کے انکار پر مبنی راستہ اختیار کیا ہے، اور مسلسل دباؤ کے باوجود استقامت اور تسلسل کے ساتھ اس پر گامزن ہے۔
گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران، پیچیدہ علاقائی اور بین الاقوامی حالات کے باوجود، اسلامی جمہوریہ ایران نے ملکی صلاحیتوں، سماجی ہم آہنگی اور باصلاحیت و پُرعزم افرادی قوت پر انحصار کرتے ہوئے مختلف سائنسی اور تکنیکی شعبوں میں نمایاں پیش رفت حاصل کی ہے۔
معاشی میدان میں، غیر منصفانہ پابندیوں اور زیادہ سے زیادہ دباؤ کی مہم کے باوجود، صنعتی پیداوار میں اضافہ، غیر تیل برآمدات کی توسیع، مالیاتی بنیادوں کی مضبوطی اور ایک متنوع اور مضبوط معیشت کی تشکیل جیسے ٹھوس نتائج حاصل کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سماجی خدمات اور بنیادی ڈھانچے میں ترقی، بشمول صحت کی سہولیات کی توسیع، مقامی پیداوار میں خاطر خواہ خودکفالت اور تعلیم کے شعبے میں بہتری نے شہریوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
خارجہ پالیسی کے میدان میں، اسلامی جمہوریہ ایران نے فعال سفارت کاری، حقیقت پسندانہ روابط اور ہمسایہ ممالک، ابھرتی ہوئی معیشتوں اور اہم علاقائی و بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ تعلقات کے فروغ کے ذریعے ایک متوازن اور تعمیری حکمتِ عملی اپنائی ہے۔ ایران خود کو علاقائی اور عالمی سطح پر ایک ذمہ دار، خودمختار اور تعمیری کردار ادا کرنے والا ملک سمجھتا ہے اور امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے مکالمے، کثیرالجہتی تعاون اور اشتراک عمل کی مسلسل حمایت کرتا آیا ہے۔
امریکہ کی جانب سے زیادہ سے زیادہ دباؤ اور جبری اقدامات کی پالیسی کے باوجود، اسلامی جمہوریہ ایران نے خیرسگالی اور سفارت کاری سے وابستگی کے مظاہرے کے طور پر جوہری امور سے متعلق مذاکرات میں شرکت کی۔ تاہم ان کوششوں کے دوران صہیونی ریاست کی جانب سے، امریکہ کی شمولیت کے ساتھ، ایران کے خلاف جارحانہ اقدامات کے نتیجے میں نمایاں انسانی اور معاشی نقصانات ہوئے۔


