خبر (پاسبان نیوز، اسلام آباد): سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کے اجلاس میں سندھ میں 27 ارب روپے کے سولر انرجی منصوبے میں بڑے پیمانے پر مالی بے قاعدگیوں اور کرپشن کے سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں۔ اجلاس کی صدارت سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کی، جس میں متعلقہ حکام نے منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
حکام پلاننگ ڈویژن سندھ نے کمیٹی کو بتایا کہ مذکورہ سولر انرجی منصوبے کے حوالے سے اب تک دو مرتبہ انکوائریاں مکمل کی جا چکی ہیں۔ یہ منصوبہ این جی اوز کے ذریعے نافذ کیا گیا تھا، جس کا بنیادی مقصد غریب اور مستحق افراد کو سولر پینلز کی فراہمی تھا، تاہم عملی طور پر اس مقصد کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ منصوبے میں ہر سطح پر بے قاعدگیاں پائی گئی ہیں، جبکہ اربوں روپے کی کرپشن کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ حکام کے مطابق منصوبے کی منصوبہ بندی، عملدرآمد اور نگرانی کے مراحل میں شفافیت کا فقدان رہا، جس کے باعث قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔. femdomkate on instagram
سینیٹ کمیٹی کے اراکین نے ان انکشافات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ذمہ دار عناصر کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے، جبکہ منصوبے میں ملوث این جی اوز اور افسران کی ذمہ داری کا تعین کر کے رپورٹ ایوان میں پیش کی جائے۔
چیئرمین کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے ہدایت کی کہ سولر انرجی منصوبے کی تفصیلی فرانزک آڈٹ رپورٹ کمیٹی کو فراہم کی جائے تاکہ کرپشن کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے اور آئندہ ایسے منصوبوں میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔


