Warning: Constant WP_CACHE already defined in /home/pasbanne34/public_html/wp-config.php on line 3
وہ امیر مسلم ریاست جہاں کے شہری نہ تو انکم ٹیکس دیتے ہیں اور نہ ہی اس ملک پر کوئی قرضہ ہے - Pasban News

وہ امیر مسلم ریاست جہاں کے شہری نہ تو انکم ٹیکس دیتے ہیں اور نہ ہی اس ملک پر کوئی قرضہ ہے

پاسبان رپورٹ

دنیا کے دیگر بہت سے ممالک کے برعکس نہ تو کوئی معاشی بحران، نہ ہی وبائی مرض اور نہ ہی یوکرین جنگ چھوٹے سے ملک برونائی کی معیشت پر کچھ خاص منفی اثر ڈال سکا ہے۔

کورونا کی وبا کے دوران دنیا کے بڑے بڑے ممالک عوام کی فلاح کے لیے مختص رقم کو وبا سے نمٹنے کے لیے استعمال کرنے پر مجبور ہوئے، تو اُس وقت بھی برونائی وہ ملک تھا جس کے قرض کا تناسب مجموعی قومی آمدن کے مقابلے میں انتہائی کم تھا یعنی صرف 1.9 فیصد۔

لیکن یہ بھی ضروری نہیں کہ قرض کا جی ڈی پی کے تناسب سے کم ہونا کسی ملک کی صحت مند معیشت کی نشاندہی کرے۔

بہت سے ترقی پذیر ممالک میں بھی قرض کا تناسب جی ڈی پی سے کم ہے مگر اُس کی وجہ یہ ہے کہ ان ممالک پر چڑھے قرض کی سطح کم ہے مگر ساتھ ساتھ ویلتھ کریئیشن کی بھی۔

تاہم برونائی میں ایسا نہیں ہے۔

یہ چھوٹی سی ریاست اپنے تیل اور گیس کے وافر ذخائر کی بدولت دنیا میں اعلیٰ ترین معیار زندگی کے حامل ممالک میں سے ایک ہے۔ یہ دنیا کا چوتھا امیر ترین ملک ہے۔

برونائی
،تصویر کا کیپشنبرونائی ماضی میں برطانیہ کی کالونی تھا

برونائی میں سکول آف اوریئئنٹل اینڈ افریقن سٹڈیز میں معاشیات کے پروفیسر الریچ وولز کے مطابق ’برونائی ایک پیٹرو سٹیٹ (ایسی ریاست جس کی معیشت کا دارومدار تیل اور گیس سے حاصل ہونے والی آمدن پر ہو) ہے۔ خام تیل اور قدرتی گیس کی پیداوار اس کے جی ڈی پی کا تقریباً 90 فیصد ہے۔‘

ایک اندازے کے مطابق برونائی کے پاس سنہ 2017 کے آخر میں 1,100 ملین بیرل تیل کے ذخائر موجود تھے، جو تیل کے عالمی ذخائر کا 0.1 فیصد ہے۔ جبکہ اس ملک کے پاس 2.6 کھرب کیوبک میٹر گیس کے ذخائر بھی ہیں جو گیس کے عالمی ذخائر کا 0.13 فیصد سے کچھ زیادہ ہے۔

اہم خبریں

جاپان کے سفیر برائے پاکستان، اکاماتسو شوئیچی، اور معروف فنکار جمال شاہ (صدر، پی جے سی اے اسلام آباد) نے پی این سی اے میں نمائش کا افتتاح کیا۔ اس تقریب میں نوجوان فنکاروں، فنونِ لطیفہ سے دلچسپی رکھنے والے افراد، اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی معزز شخصیات نے شرکت کی۔

2