پاکستان اور ایران نے باہمی اعتماد اور دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید فروغ دیتے ہوئے زرعی شعبے میں تعاون کو وسعت دینے اور زرعی اجناس کی دوطرفہ تجارت بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے سیاسی و اقتصادی روابط کی عکاس ہے۔

ایران کے وزیرِ زراعت عالی جناب کے دورۂ پاکستان کے موقع پر اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں زرعی تعاون، غذائی تحفظ اور باہمی تجارت کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقاتوں کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان سے ایران کو مکئی (کارن) کی برآمدات کو حتمی شکل دی جائے گی، جبکہ ایران کی جانب سے چاول، گوشت اور دیگر زرعی مصنوعات کی درآمدات میں اضافے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔
فریقین نے اس امر پر زور دیا کہ زرعی شعبہ دونوں ممالک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اور اس میدان میں قریبی تعاون نہ صرف غذائی تحفظ کو مضبوط بنائے گا بلکہ سرحدی تجارت اور نجی شعبے کے روابط کو بھی فروغ دے گا۔
اس موقع پر زرعی تعاون کی مشترکہ کمیٹی کو مزید فعال بنانے پر اتفاق کیا گیا، جو طے شدہ اہداف پر عملدرآمد، تکنیکی تبادلوں، جدید زرعی ٹیکنالوجی کے اشتراک اور باہمی سرمایہ کاری کے مواقع کی نگرانی کرے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان حالیہ پیش رفت خطے میں اقتصادی استحکام اور علاقائی رابطوں کے فروغ کے لیے نہایت اہم ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتے پہلے ہی مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں، اور اب زرعی و تجارتی تعاون ان تعلقات کو عملی اور معاشی جہت دے رہا ہے۔
یہ پیش رفت اس امر کی مظہر ہے کہ پاکستان اور ایران باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر ایک مضبوط، پائیدار اور نتیجہ خیز شراکت داری کی جانب گامزن ہیں۔


